اتراکھنڈ۔

اس وقت پورا انڈیا کورونا وائرس کی وجہ سے ایک بحرانی کیفیت میں ہے

Editor
September 16 2020 Updated: September 16 2020
0 0
اس وقت پورا انڈیا کورونا وائرس کی وجہ سے ایک بحرانی کیفیت میں ہے

 

انکت سیٹھیا نے جمعے کی پوری رات جاگ کر گزار دی تاکہ کسی نہ کسی طرح ممبئی کے مضافات میں واقع 50 بیڈ کے ہسپتال کے لیے آکسیجن کا انتظام کر لیں۔

انکت کے ایس ایس ہسپتال میں آکسیجن کے چار میں سے صرف دو ٹینک بھرے ہوئے تھے۔ جبکہ ہسپتال میں 44 بیڈز پر کورونا وائرس کے مریض موجود تھے جنھیں آکسیجن کی ضرورت تھی۔

ہر چھوٹا ٹینک نو کے بجائے چھ گھنٹوں میں ختم ہو رہا تھا کیونکہ مریضوں کی اس کی ضرورت زیادہ پڑھ رہی تھی اور انکت سیٹھیا کو آکسیجن دینے والے دونوں افراد کے پاس خود بھی آکسیجن نہیں رہی۔

اس رات انکت سیٹھیا نے قریب 10 آکسیجن ڈیلرز اور چار ہسپتالوں کو فون گھمائے تاکہ آکسیجن حاصل کی جا سکے۔ لیکن مدد نہ ملی۔ پھر کہیں جا کر انھیں ایک 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہسپتال سے 20 بڑے سلنڈر دستیاب ہو گئے۔

ان کے پاس آکسیجن لانے کے لیے گاڑیاں نہیں تھیں تو ان کی اپنی ایمبولنسز نے پوری رات پانچ چکر کاٹے تاکہ وہ آکسیجن حاصل کر سکیں۔

اب ان کے ہسپتال میں چار افراد کا سارا دن کام ہی یہی ہے کہ وہ ایسے ڈیلرز سے رابطے میں رہیں جو انھیں فوری طور پر آکسیجن کا سلنڈر یا ٹینک فراہم کر سکے۔

اتوار کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انکت سیٹھیا نے کہا: 'میرے پاس اگلے 12 گھنٹے کی آکسیجن ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ ہم روزانہ آگ بجھا رہے ہیں اور جنگ صرف یہی ہے کہ کسی طرح آکسیجن مل جائے۔'

انکت سیٹھیا اکیلے نہیں ہیں۔ اس وقت پورا انڈیا کورونا وائرس کی وجہ سے ایک بحرانی کیفیت میں ہے اور بدھ کو سرکاری طور پر تصدیق کی گئی کہ ملک میں کورونا وائرس کے مجموعی متاثرین کی تعداد پچاس لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، اور انڈیا امریکہ کے بعد دوسرا سب سے بڑا متاثرہ ملک بن گیا ہے۔

نہ صرف یہ، بلکہ کورونا وائرس دنیا میں سب سے تیزی سے انڈیا میں پھیل رہا ہے اور گذشتہ پانچ دنوں میں روزانہ 90 ہزار نئے متاثرین کی شناخت ہو رہی تھی۔

انڈیا میں وائرس کے بڑھنے کی رفتار میں تیزی ایک ایسے وقت میں آ رہی ہے جب حکومت نے لاک ڈاؤن اور دیگر پابندیاں ہٹانے کا حکم دیا ہے تاکہ انڈیا کی گرتی ہوئی معیشت اور لاکھوں کی تعداد میں بے روز گار افراد کو سہارا مل سکے۔

WHAT'S YOUR REACTION?

  • 0
  • 0
  • 0
  • 0
  • 0
  • 0
  • 0

COMMENTS